Sunday, 20 April 2025

خاموش دروازہ

 خاموش دروازہ

Download 

میری شادی کو دو سال ہوئے تھے۔ سسرال میں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، سوائے اس کے کہ میرے سسر بہت بیمار تھے — آخری اسٹیج کی بیماری۔ ان کے چہرے پر موت کی پرچھائیاں صاف دکھائی دیتی تھیں۔


ایک دن، جب ہم سب ان کے پاس بیٹھے تھے، انہوں نے ایک ایسی خواہش کا اظہار کیا کہ سب کے چہروں کا رنگ اُڑ گیا۔


"میری آخری خواہش ہے… کہ میری بہو کی چھوٹی بہن… فریال… چودہ سال کی ہے نا؟… اس کی شادی مجھ سے کر دو۔ میں سکون سے مر جاؤں گا۔"


کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ میں نے سمجھا شاید بیماری نے ان کا ذہن متاثر کر دیا ہے، مگر میرے شوہر نے فوراً سر جھکا لیا۔

کچھ دن بعد، زبردستی، خاندان کے دباؤ میں آ کر میری ماں نے… میری چھوٹی بہن کی شادی میرے سسر سے کر دی۔


فریال کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر زبان بند تھی۔ وہ صرف چودہ سال کی تھی… گڑیا کھیلنے کی عمر تھی اس کی… اور اب دلہن بنا کر ایک بوڑھے کے ساتھ رخصت کر دی گئی۔


شادی کے تین دن بعد، سسر نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔ نہ کسی کو بلایا، نہ خود باہر نکلے۔

فریال بھی کمرے میں ہی تھی۔ ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا، آواز دی، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔


چوتھے دن، ہم نے مجبور ہو کر دروازہ توڑ دیا۔


کمرے کا منظر… قیامت سے کم نہ تھا۔

میرے سسر کی لاش بستر پر تھی… اور فریال ایک کونے میں بیٹھے سہمے ہوئے کپکپا رہی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں خوف، خاموشی اور ٹوٹے خوابوں کی ایک پوری دنیا قید تھی۔


ہم سب پر سکتہ طاری ہو گیا۔ اُس دن ہم نے صرف ایک بوڑھے کو نہیں، ایک معصوم بچی کا بچپن، اُس کی مسکراہٹ، اُس کی جان کا سکون بھی دفن کر دیا۔


اُس دن مجھے سمجھ آیا کہ "خاموشی صرف دروازوں کی نہیں ہوتی، بعض دفعہ روحوں پر بھی تالے پڑ جاتے ہیں۔"

Read More 


---


سبق:


یہ کہانی کسی ایک گھر کی نہیں، ہزاروں گھروں کی ہے جہاں کم عمری کی شادی کو رسم یا مجبوری سمجھ کر بچیوں کی زندگیاں برباد کر دی جاتی ہیں۔ یہ صرف قانونی جرم نہیں، بلکہ اخلاقی گناہ بھی ہے۔ ہمیں آواز اٹھانی ہوگی، ورنہ ہر دروازے کے پیچھے کوئی فریال سسکتی رہے گی۔

No comments:

Post a Comment